مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ باب: خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین کا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ ، رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا ، وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرِّجَالِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ هَذِهِ ؟ فَقُلْتُ : هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَالْهُذَلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَسْقَطَ الْهُذَلِيَّ الْمُبْهَمَ ، فَعَلَى هَذَا رِجَالُ الطَّبَرَانِيُّ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . ¤ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی رہائش گاہ حرم کی حدود سے باہر تھی اور ان کی نماز والی جگہ حرم کے حدود کے اندر تھی ، راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں ان کے پاس موجود تھا ، انہوں نے ابوجہل کی صاحبزادی اُم سعید کو دیکھا کہ جس نے کمان لٹکائی ہوئی تھی اور وہ مردوں کی طرح چلتی ہوئی جا رہی تھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ میں نے بتایا : یہ ام سعید بنت ابوجہل ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ ہم میں سے نہیں ، جو عورتیں مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتی ہیں ، اور جو مرد عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور ہذیلی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے مبہم ہذلی شخص کا ذکر نہیں کیا اس بنیاد پر طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہوں گے ۔