مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَمِعَ كَلَامًا يَكْرَهُ الْمُتَكَلِّمُ نَقْلَهُ باب: اس شخص کا بیان جو کوئی کلام سنتا ہے ، اور کلام کرنے والا شخص اس بات کے نقل کرنے کو ناپسند کرتا ہے
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ جَالِسًا ، فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ لَمْ يُحِبَّ أَنْ يَسْمَعَهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ : أَما سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَدَّثَ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُفْشَى عَلَيْهِ فَهُوَ أَمَانَةٌ وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ صَاحِبُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کوئی بات کی ، اس بات کو ایک ایسے شخص نے سن لیا ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ اس کو سن لے ، تو وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص کوئی بات کرے اور اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ بات اس کی طرف سے نہ پھیلے تو وہ بات امانت ہوتی ہے اگرچہ متعلقہ فرد نے اس کو چھپانے کا وعدہ نہ لیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ متروک ہے ۔