کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو کوئی کلام سنتا ہے ، اور کلام کرنے والا شخص اس بات کے نقل کرنے کو ناپسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 13166
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ ، فَهُوَ أَمَانَةٌ ، وَإِنْ لَمْ يُسْتَكْتِمْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ جَالِسًا فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ ، فَسَمِعَهُ رَجُلٌ لَمْ يُحِبَّ أَنْ يَسْمَعَهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَدَّثَ حَدِيثًا لَا يُحِبُّ أَنْ يُفْشَى عَلَيْهِ ، فَهُوَ أَمَانَةٌ ، وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ صَاحِبُهُ " ؟ قَالَ : بَلَى قَدْ عَلِمْتُ مَا أَرَدْتَ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ : لَا تَذْكُرْ هَذَا الْحَدِيثَ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْآخَرِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی دوسرے شخص سے کوئی بات سنے اور دوسرا شخص یہ پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے حوالے سے اس بات کا ذکر کیا جائے ، تو وہ بات امانت ہوتی ہے اگرچہ اس ( کلام کرنے والے ) نے اس کو چھپانے کا وعدہ نہ لیا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے عبید بن عمیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ عبدالرحمن بن سلمان بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کوئی کلام کیا ، ایک شخص نے ان کی بات سن لی ، انہیں یہ بات پسند نہیں تھی کہ کوئی شخص ان کی بات سنے انہوں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص کوئی بات کرے اور وہ اس بات کو پسند نہ کرتا ہو کہ اس کی طرف سے اس بات کو پھیلایا جائے ، تو وہ بات امانت ہوتی ہے اگرچہ متعلقہ فرد نے اس کو چھپانے کا وعدہ نہ کیا ہو ( یا وعدہ نہ لیا ہو ) ۔ “ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ میں یہ بات جانتا ہوں جو آپ مراد لے رہے ہیں پھر وہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوے اور بولے : تم اس بات کا تذکرہ نہ کرنا ۔ امام أحمد کی سند میں اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے ، اور وہ متروک ہے ، جبکہ دوسری سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13166
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (445/6)»
حدیث نمبر: 13167
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ جَالِسًا ، فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ لَمْ يُحِبَّ أَنْ يَسْمَعَهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ : أَما سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَدَّثَ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُفْشَى عَلَيْهِ فَهُوَ أَمَانَةٌ وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ صَاحِبُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کوئی بات کی ، اس بات کو ایک ایسے شخص نے سن لیا ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ اس کو سن لے ، تو وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص کوئی بات کرے اور اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ بات اس کی طرف سے نہ پھیلے تو وہ بات امانت ہوتی ہے اگرچہ متعلقہ فرد نے اس کو چھپانے کا وعدہ نہ لیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13167
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13168
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَهِيَ أَمَانَةٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ جُبَارَةَ بْنِ مُفْلِسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : صَدُوقٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص کوئی بات کرے اور پھر وہ توجہ کرے ، تو وہ بات امانت ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ابن نمیر کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13168
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4158)»