مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَمِعَ كَلَامًا يَكْرَهُ الْمُتَكَلِّمُ نَقْلَهُ باب: اس شخص کا بیان جو کوئی کلام سنتا ہے ، اور کلام کرنے والا شخص اس بات کے نقل کرنے کو ناپسند کرتا ہے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ ، فَهُوَ أَمَانَةٌ ، وَإِنْ لَمْ يُسْتَكْتِمْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ جَالِسًا فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ ، فَسَمِعَهُ رَجُلٌ لَمْ يُحِبَّ أَنْ يَسْمَعَهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَدَّثَ حَدِيثًا لَا يُحِبُّ أَنْ يُفْشَى عَلَيْهِ ، فَهُوَ أَمَانَةٌ ، وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ صَاحِبُهُ " ؟ قَالَ : بَلَى قَدْ عَلِمْتُ مَا أَرَدْتَ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ : لَا تَذْكُرْ هَذَا الْحَدِيثَ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْآخَرِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی دوسرے شخص سے کوئی بات سنے اور دوسرا شخص یہ پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے حوالے سے اس بات کا ذکر کیا جائے ، تو وہ بات امانت ہوتی ہے اگرچہ اس ( کلام کرنے والے ) نے اس کو چھپانے کا وعدہ نہ لیا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے عبید بن عمیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ عبدالرحمن بن سلمان بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کوئی کلام کیا ، ایک شخص نے ان کی بات سن لی ، انہیں یہ بات پسند نہیں تھی کہ کوئی شخص ان کی بات سنے انہوں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص کوئی بات کرے اور وہ اس بات کو پسند نہ کرتا ہو کہ اس کی طرف سے اس بات کو پھیلایا جائے ، تو وہ بات امانت ہوتی ہے اگرچہ متعلقہ فرد نے اس کو چھپانے کا وعدہ نہ کیا ہو ( یا وعدہ نہ لیا ہو ) ۔ “ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ میں یہ بات جانتا ہوں جو آپ مراد لے رہے ہیں پھر وہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوے اور بولے : تم اس بات کا تذکرہ نہ کرنا ۔ امام أحمد کی سند میں اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے ، اور وہ متروک ہے ، جبکہ دوسری سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ متروک ہے ۔