مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُجْتَنَبُ مِنَ الْكَلَامِ باب: اس چیز کا بیان کہ کون سے کلام سے اجتناب کرنا چاہیے ؟
حدیث نمبر: 13149
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَرْفَعُهُ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لِيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ ، وَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيفَةٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” بعض اوقات کوئی شخص کوئی بات کہتا ہے وہ اس کے ذریعے کسی خرابی کا ارادہ نہیں رکھتا ، اس کا مقصد اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے ، لیکن اس بات کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ ( جہنم میں گہرائی میں ) گرتا ہے جتنا آسمان کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔