مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُجْتَنَبُ مِنَ الْكَلَامِ باب: اس چیز کا بیان کہ کون سے کلام سے اجتناب کرنا چاہیے ؟
عَنِ الْعَاصِي بْنِ عَمْرٍو الطُّفَاوِيِّ قَالَ : خَرَجَ أَبُو الْعَادِيَةِ وَحَبِيبُ بْنُ الْحَارِثِ وَأُمُّ الْعَلَاءِ مُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمُوا ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِيَّاكِ وَمَا يَسُوءُ الْأُذُنَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الْعَاصِي بْنِ عَمْرٍو الطُّفَاوِيِّ قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قَالَتْ : دَخَلْتُ مَعَ نَاسٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ . قَالَ : " إِيَّاكِ وَمَا يَسُوءُ الْأُذُنَ " . وَفِيهِ الْعَاصِي بْنِ عَمْرٍو الطُّفَاوِيُّ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ وَتَمَّامُ بْنُ بَزِيعٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عاصی بن عمرو طفاوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوغادیہ رضی اللہ عنہ سیدنا حبیب بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے نکلے ، انہوں نے اسلام قبول کیا ، اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی تلقین کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس چیز سے بچ کے رہنا جو کانوں کو برا کرے ۔
یہ روایت عبداللہ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے ، عاصم بن عمرو طفاوی نے یہ بات نقل کی ہے ، میری پھوپھی نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ وہ خاتون کہتی ہیں : میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے عرض کی : آپ مجھے کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس چیز سے بچ کے رہنا جو کانوں کو برا کرے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمرو طفاوی ہے اور وہ مستور ہے ۔ اس سے محمد بن عبدالرحمن طفاوی اور تمام بن بزیع نے روایات نقل کی ہیں ، مسند کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔