مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ افْتَخَرَ بِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ باب: اس شخص کا بیان ، جو اہل جاہلیت کے حوالے سے ، فخر کا اظہار کرتا ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ ، فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّ تِسْعَةَ آبَاءٍ . ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ : انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ . فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ . فَنَادَى مُوسَى فِي النَّاسِ فَجَمَعَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا ، أَمَّا أَنْتَ الَّذِي انْتَسَبْتَ إِلَى آبَاءٍ ، فَإِنَّكَ تُوَفِّيهِمُ الْعَاشِرَ فِي النَّارِ ، وَأَمَّا أَنْتَ الَّذِي انْتَسَبْتَ إِلَى أَبَوَيْكَ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى مُعَاذٍ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے ایک دوسرے کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک تھا ، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے یہ کہا: کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، یہاں تک کہ اس نے اپنے نو آباء کے نام بیان کئے ، پھر اس نے اپنے دوسرے فریق سے کہا: تم اپنا نسب بیان کرو تمہاری ماں نہ رہے ، تو اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں اس چیز سے بری ہوں ، جو اس سے پیچھے ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے لوگوں میں اعلان کروا کے انہیں جمع کروایا اور پھر فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، اے وہ شخص ! جس نے اپنا نسب نو آباء تک بیان کیا ہے ، تم جہنم میں ان کے ساتھ مل کے دس کی تعداد کو پورا کر دو گے ، اور اے وہ شخص جس نے اپنے دو آباء تک کے نسب کو بیان کیا ہے تم اہل اسلام میں سے ایک فرد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔