مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ افْتَخَرَ بِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ باب: اس شخص کا بیان ، جو اہل جاہلیت کے حوالے سے ، فخر کا اظہار کرتا ہے
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، حَتَّى عَدَّ تِسْعَةً ، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ ؟ فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ ابْنِ الْإِسْلَامِ . قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ هَذَيْنِ الْمُنْتَسِبَيْنِ : أَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الْمُنْتَمِي - أَوِ الْمُنْتَسِبُ - إِلَى تِسْعَةٍ فِي النَّارِ فَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا هَذَا الْمُنْتَسِبُ إِلَى اثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ فَأَنْتَ ثَالِثُهُمَا فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں ، تم کون ہو ؟ تمہاری ماں نہ رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک نے یہ کہا: کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، یہاں تک کہ اس نے اپنے نو اجداد شمار کروائے ( اور پھر بولا: ) تم کون ہو ، تمہاری ماں نہ رہے ۔ اس شخص نے جواب دیا : میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی : یہ دو افراد ہیں ، جنہوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں نسب کا اظہار کیا ہے ، تو اے وہ شخص جس نے اپنی نسبت ان نو افراد کی طرف کی ، جو جہنم میں ہیں تو تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے ، اور اے وہ شخص جس نے اپنی نسبت دو افراد کی طرف کی ، جو جنت میں ہیں ، تو تم ان کے ساتھ تیسرے فرد جنت میں ہو گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن زیاد بن ابوالجعد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔