مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ لَا فَضْلَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالتَّقْوَى باب: کسی شخص کو کسی دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ کا معاملہ مختلف ہے
وَعَنْ قَنْبَرَ حَاجِبٍ مُعَاوِيَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُغْلِظُ لِمُعَاوِيَةَ قَالَ : فَشَكَاهُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَإِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَإِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِلَى أُمِّ حَرَامٍ فَقَالَ : إِنَّكُمْ صَحِبْتُمْ كَمَا صَحِبْتُ ، وَرَأَيْتُمْ كَمَا رَأَيْتُ ، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُكَلِّمُوهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَجَاءَ ، فَكَلَّمُوهُ فَقَالَ : أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِي وَلَكَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيَّ ، وَقَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ بِكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَإِنْ كَادَتْ وَفَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَتَفُوتُكَ ، ثُمَّ أَسْلَمْتَ ، فَكُنْتَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو ، فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَّا أَنْتِ يَا أُمَّ حَرَامٍ ، فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ ، وَعَقْلُكِ عَقْلُ امْرَأَةٍ ، فَمَا أَنْتِ وَذَاكَ ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ : لَا جَرَمَ لَا جَلَسْتُ مِثْلَ هَذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ قَنْبَرُ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ( وَلَمْ يَجْرَحْهُ ) ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان ، قنبر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے تھے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی شکایت سیدنا عبادہ بن صامت ، سیدنا ابودرداء اور سیدنا عمرو بن العاص اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہم سے کی اور یہ کہا: کہ آپ لوگوں کو بھی اسی طرح ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) صحبت حاصل ہے جس طرح مجھے حاصل ہے ، اور آپ لوگوں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح میں نے دیکھا ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کے ساتھ بات چیت کریں ، پھر انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا ، وہ تشریف لائے ، ان حضرات نے ان کے ساتھ بات چیت کی تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے سیدنا ابوولید ! آپ نے مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا آپ کو عمر میں برتری کا شرف بھی حاصل ہے اور مجھ پر فضیلت بھی حاصل ہے اور میں آپ کو اس طرح کی محفل سے بالاتر سمجھتا تھا ، اسے سیدنا ابودرداء ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو قریب تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے آپ ( صحابی ہونے ) سے رہ جاتے ، لیکن پھر بھی آپ نے اسلام قبول کیا ، پھر آپ نیک مسلمانوں میں سے ہو گئے ، اے سیدنا عمرو ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو آپ نے اللہ کے رسول کے ساتھ جہاد کیا ، اے ام حرام ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو آپ ایک خاتون ہیں اور آپ کی عقل ایک خاتون کی عقل ہے ، تو پھر آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یقیناً میں آئندہ کبھی اس طرح کی محفل میں نہیں بیٹھوں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قنبر ہے ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دربان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔