مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ افْتَخَرَ بِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ باب: اس شخص کا بیان ، جو اہل جاہلیت کے حوالے سے ، فخر کا اظہار کرتا ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَفْخَرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَلَّذِي يُدَهْدِهُ الْجِعْلَانُ بِأَنْفِهِ خَيْرٌ مِنْهُمْ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے ان آباؤ اجداد کے حوالے سے فخر نہ کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جعل ( نامی کیڑہ یا پرندہ ) اپنے نتھنوں سے جو کچھ نکالتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے زیادہ بہتر ہے ، جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جعلان ( نامی پرندے یا کیڑے ) کے ناک میں سے جو نکلتا ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔