مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ لَا فَضْلَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالتَّقْوَى باب: کسی شخص کو کسی دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ کا معاملہ مختلف ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَمَرَ اللَّهُ مُنَادِيًا يُنَادِي : أَلَا إِنِّي جَعَلْتُ نَسَبًا وَجَعَلْتُمْ نَسَبًا ، فَجَعَلْتُ أَكْرَمَكُمْ أَتْقَاكُمْ ، فَأَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ خَيْرٌ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، فَالْيَوْمَ أَرْفَعُ نَسَبِي وَأَضَعُ نَسَبَكُمْ ، أَيْنَ الْمُتَّقُونَ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا ، جو یہ اعلان کرے گا ، خبردار ! ایک نسب میں نے بنایا تھا ، اور ایک نسب تم لوگوں نے بنایا ، میں نے تم میں سے سب سے زیادہ معزز اس شخص کو بنایا جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ، لیکن تم لوگوں نے یہ بات نہیں مانی اور یہ کہا: کہ فلاں بن فلاں جو ہے ۔ وہ فلاں بن فلاں سے بہتر ہے ، آج میں اپنے نسب کو سربلندی عطا کروں گا اور تمہارے نسب کو پست کر دوں گا ، پرہیزگار لوگ کہاں ہیں ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔