مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَضَبِ وَثَوَابِ مَنْ لَمْ يَغْضَبْ باب: غصہ کرنے اور جو شخص غصہ نہیں کرتا اس کے ثواب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12988
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ فَأَعَدْتُ مَرَّتَيْنِ ، كُلُّ ذَلِكَ يُرَجِّعُ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور مختصر ارشاد فرمائیے تاکہ میں اسے سمجھ لوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ میں نے دو مرتبہ اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ مجھے یہی جواب دیا : تم غصہ نہ کرنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔