کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: غصہ کرنے اور جو شخص غصہ نہیں کرتا اس کے ثواب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12985
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : ¤ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا يُبَاعِدُنِي مِنْ غَضَبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کون سی چیز مجھے اللہ کے غضب سے دور کر سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس حدیث کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس حدیث کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12986
وَعَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ عَلَيَّ ، لَعَلِّي أَعِيَهُ . قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " . فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمِّهِ وَعَمُّهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ كَذَلِكَ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ أَنَّ عَمَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . . . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عَمُّ أَبِي أَنَّهُ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور مختصر بات عنایت کیجئے گا تاکہ میں اس کو محفوظ رکھوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ، اس نے چند مرتبہ اپنی بات دہرائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ اسے یہی فرمایا کہ تم غصہ نہ کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :
یہ روایت احنف نے اپنے چچا کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کے چچا سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی بات ارشاد فرمایئے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے اور انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ان کے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے چچا زاد کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے چچا نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :
یہ روایت احنف نے اپنے چچا کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کے چچا سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی بات ارشاد فرمایئے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے اور انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ان کے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے چچا زاد کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے چچا نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12987
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ قَالَ : فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ ، فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن عبدالرحمن ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو میں نے اس میں تھوڑی دیر غور و فکر کیا ، تو اس میں یہ بات سامنے آئی کہ غصے میں ہر قسم کی برائی اکٹھی ہو جاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12988
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ فَأَعَدْتُ مَرَّتَيْنِ ، كُلُّ ذَلِكَ يُرَجِّعُ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور مختصر ارشاد فرمائیے تاکہ میں اسے سمجھ لوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ میں نے دو مرتبہ اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ مجھے یہی جواب دیا : تم غصہ نہ کرنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12989
وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : ¤ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ . قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ صَالِحٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَلَمْ أَعْرِفْ صَالِحًا هَذَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوصالح ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں تعلیم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے اور مجھے زیادہ باتیں نہ بتائیے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، جو صالح نے اعمش کے حوالے سے نقل کی ہے میں صالح نامی اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، جو صالح نے اعمش کے حوالے سے نقل کی ہے میں صالح نامی اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12990
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قُلْتُ : ¤ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ ، وَلَكَ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ، تمہیں جنت نصیب ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12991
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلًا أَنْتَفِعُ بِهِ ، وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ " . فَعَاوَدَهُ مِرَارًا يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، يَقُولُ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْضَبْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ وَلَمْ يُعْرَفْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے جس سے میں نفع حاصل کروں اور مختصر بات ارشاد فرمائیے گا تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ انہوں نے چند مرتبہ اپنے سوال کو دہرایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ تم غصہ نہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد ہے جو معروف نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد ہے جو معروف نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12992
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ دَفَعَ غَضَبَهُ دَفَعَ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ ، وَمَنْ حَفِظَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے غصے کو پرے کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو پرے کر دیتا ہے ، اور جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔