حدیث نمبر: 12936
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ¤ أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ فِيهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ ، فَسَلَّمَ فَرَدُّوا السَّلَامَ ، فَكَرِهَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَجْلِسَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَجْلِسٌ كَانَ يَجْلِسُهُ آبَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَحْبَبْنَا ، أَنْ نُعَمِّرَهُ وَنَجْلِسَ فِيهِ . قَالَ : " فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا ، فَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَغُضُّوا الْأَبْصَارَ ، وَأَرْشِدُوا السَّبِيلَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک محفل میں تشریف لائے جن میں کچھ افراد کا تعلق انصار سے تھا ، آپ نے سلام کیا ، ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ محفل پسند نہیں آئی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بیٹھنے کا ایک ایسا طریقہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد زمانہ جاہلیت میں اسی طرح بیٹھا کرتے تھے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم اس محفل کو آباد کریں اور اس میں بیٹھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس طرح کرنے پر اصرار کرتے ہو ، تو سلام کا جواب دو ، نگاہیں جھکا کے رکھو اور راستے کے بارے میں رہنمائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ۔ وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12936
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً