مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْجُلُوسِ عَلَى الصَّعِيدِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ باب: میدان میں بیٹھنا اور راستے کو اس کا حق دینا
حدیث نمبر: 12935
عَنْ أَبِي شُرَيْحِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الصُّعُدَاتِ ، فَمَنْ جَلَسَ عَلَى الصَّعِيدِ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ " . ¤ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ التَّحِيَّةِ ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح بن عمرو خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو ، جو شخص راستے میں بیٹھتا ہے ، تو وہ اس کو اس کا حق دے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نگاہ کو جھکا کے رکھنا سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔