حدیث نمبر: 12935
عَنْ أَبِي شُرَيْحِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الصُّعُدَاتِ ، فَمَنْ جَلَسَ عَلَى الصَّعِيدِ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ " . ¤ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ التَّحِيَّةِ ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح بن عمرو خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو ، جو شخص راستے میں بیٹھتا ہے ، تو وہ اس کو اس کا حق دے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نگاہ کو جھکا کے رکھنا سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12936
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ¤ أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ فِيهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ ، فَسَلَّمَ فَرَدُّوا السَّلَامَ ، فَكَرِهَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَجْلِسَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَجْلِسٌ كَانَ يَجْلِسُهُ آبَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَحْبَبْنَا ، أَنْ نُعَمِّرَهُ وَنَجْلِسَ فِيهِ . قَالَ : " فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا ، فَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَغُضُّوا الْأَبْصَارَ ، وَأَرْشِدُوا السَّبِيلَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک محفل میں تشریف لائے جن میں کچھ افراد کا تعلق انصار سے تھا ، آپ نے سلام کیا ، ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ محفل پسند نہیں آئی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بیٹھنے کا ایک ایسا طریقہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد زمانہ جاہلیت میں اسی طرح بیٹھا کرتے تھے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم اس محفل کو آباد کریں اور اس میں بیٹھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس طرح کرنے پر اصرار کرتے ہو ، تو سلام کا جواب دو ، نگاہیں جھکا کے رکھو اور راستے کے بارے میں رہنمائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ۔ وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ۔ وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12937
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الصُّعُدَاتِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قِيلَ : وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ السَّلَامِ " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَإِرْشَادُ الضَّالِّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْهَرَوِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” راستے میں بیٹھنے سے بچو ، اگر تمہیں ایسا کیے بغیر چارہ نہ ہو ، تو راستے کو اس کا حق دو ! عرض کی گئی : اس کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نگاہ کو جھکا کے رکھنا اور سلام کا جواب دینا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سنان ہروی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سنان ہروی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 12938
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تَجْلِسُوا فِي الْمَجَالِسِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَغُضُّوا الْأَبْصَارَ ، وَاهْدُوا السَّبِيلَ ، وَأَعِينُوا عَلَى الْحُمُولَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( راستے میں ) محافل میں نہ بیٹھو ، اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو سلام کا جواب دو ، نگاہیں جھکا کے رکھو ، راستے کے بارے میں رہنمائی کرو اور وزن لادنے کے بارے میں مدد کرو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور خراب حافظے کا مالک ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور خراب حافظے کا مالک ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 12939
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ قَالَ : قَالَ أَهْلُ الْعَالِيَةِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسَ . قَالَ : " فَأَدُّوا حَقَّ الْمَجَالِسَ " . قَالُوا : وَمَا حَقُّ الْمَجَالِسِ ؟ قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ كَثِيرًا ، وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ ، وَغَضُّ الْأَبْصَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، تَابِعِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بالائی علاقے کے رہنے والوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے اس طرح بیٹھنے کے بغیر چارہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : محافل کا حق ادا کرو ۔ لوگوں نے عرض کی : محافل کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنا ، راستے کے بارے میں رہنمائی کرنا اور نگاہیں جھکا کے رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبدالرحمن انصاری ہے ، جو تابعی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبدالرحمن انصاری ہے ، جو تابعی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 12940
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَعَلَّكُمْ تَسْتَفْتِحُونَ بَعْدِي مَدَائِنَ عِظَامًا ، وَتَتَّخِذُونَ فِي أَسْوَاقِهَا مَجَالِسَ ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ ، فَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِكُمْ ، وَاهْدُوا الْأَعْمَى ، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آگے چل کے تم میرے بعد بڑے بڑے شہر فتح کرو گے ، اور ان کے بازاروں میں محفلیں منعقد کرو گے ، جب ایسا ہو تو تم سلام کا جواب دینا اور نگاہیں جھکا کے رکھنا اور نابینا شخص کی رہنمائی کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے سب رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے سب رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔