❮
❯
حدیث نمبر: 12937
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الصُّعُدَاتِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قِيلَ : وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ السَّلَامِ " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَإِرْشَادُ الضَّالِّ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْهَرَوِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” راستے میں بیٹھنے سے بچو ، اگر تمہیں ایسا کیے بغیر چارہ نہ ہو ، تو راستے کو اس کا حق دو ! عرض کی گئی : اس کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نگاہ کو جھکا کے رکھنا اور سلام کا جواب دینا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سنان ہروی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2018) ، أخرجه مسند البزار برقم: 338، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 11615»