مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ اسْمُهُ : عَبْدُ كَلُّوبٍ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَمَرَّ بِهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ : " تَعَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " . فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَطْلُبِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ طَلَبْتَهَا فَأَوْلَيْتَهَا ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ لَمْ تَطْلُبْهَا أُعِنْتَ عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مُرْسَلًا مِنْ طَرِيقِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ کا نام عبدکلوب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا تھا ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : عبدالرحمن ادھر آؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم کبھی حکومت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے طلب کیا اور تم نے اسے ترجیح دی تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا ، اور اگر تم نے اسے طلب نہ کیا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط ” مرسل “ روایت کے طور پر اسحاق بن عبداللہ بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ راوی ضعیف ہے ۔