کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12855
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مَلِكُ الْأَمْلَاكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص پر شدید ہوتا ہے ، جو یہ گمان کرتا ہے کہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے ( یعنی جس کا نام شہنشاہ ہو ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12855
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12113)»
حدیث نمبر: 12856
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُسَمِّيَ الرَّجُلُ عَبْدَهُ أَوْ وَلَدَهُ حَارِثًا ، أَوْ مُرَّةَ ، أَوْ وَلِيدًا ، أَوْ حَكَمًا ، أَوْ أَبَا الْحَكَمِ ، أَوْ أَفْلَحَ ، أَوْ نَجِيحًا ، أَوْ يَسَارًا . ¤ وَقَالَ : " أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يُعَبَّدُ بِهِ ، وَأَصْدَقُ الْأَسْمَاءِ هَمَّامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے غلام یا اپنے بیٹے کا نام حارث یا مرہ یا ولید یا حکم یا ابوالحکم یا افلح یا نجیح یا یسار رکھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام وہ ہے ، جس کے ذریعے اس کی عبدیت کا اظہار ہوتا ہو ، اور سب سے زیادہ سچا نام ہمام ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12856
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (698) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9992)»
حدیث نمبر: 12857
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُسَمَّى كَلْبٌ أَوْ كُلَيْبٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کلب یا کلیب نام رکھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1163)»
حدیث نمبر: 12858
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ قَالَ : ¤ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : شَيْطَانُ بْنُ قُرْطٍ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسلم بن عبدالله ازدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : شیطان بن قرط ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عبداللہ بن قرط ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12858
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (350/4)»
حدیث نمبر: 12859
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ : ¤ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : شَيْطَانُ بْنُ قُرْطٍ . قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : شیطان بن قرط ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم عبداللہ بن قرط ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12859
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12860
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : شِهَابٌ . قَالَ : " أَنْتَ هِشَامٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص سے یہ کہتے ہوئے سنا ، تمہارا نام کیا ہے ، تو دوسرے نے جواب دیا : شہاب ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہشام ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (75/6)»
حدیث نمبر: 12861
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ : سَمِعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : يَا حَرَامُ . فَقَالَ : " يَا حَلَالُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : اے حرام ! تو آپ نے فرمایا : اے حلال ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (471/3)»
حدیث نمبر: 12862
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : غُدْرَةٌ ، فَسَمَّاهَا : " خُضْرَةً " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک جگہ سے ہوا جس کا نام غدرہ تھا تو آپ نے اس کا نام خضرہ ( یعنی سرسبز و شاداب ) رکھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12862
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4556) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (652)»
حدیث نمبر: 12863
وَعَنْهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ اسْمًا قَبِيحًا غَيَّرَهُ ، فَمَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا : عُفْرَةٌ فَسَمَّاهَا : " خُضْرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی برا نام سنتے تھے ، تو آپ اسے تبدیل کر دیتے تھے ایک مرتبہ آپ کا گزر ایک بستی سے ہوا جس کا نام عقرہ ( یعنی بانجھ یا بنجر ) تھا ، تو آپ نے اس کا نام خضرہ ( یعنی سرسبز و شاداب ) رکھ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (349)»
حدیث نمبر: 12864
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ : ¤ وَكَانَ قَدْ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَاسْمُهُ زَحَمٌ ، فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " بَشِيرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ بیان کرتے ہیں : ان کا نام زحم تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (83/5)»
حدیث نمبر: 12865
وَعَنِ الْجَهْدَمَةِ امْرَأَةِ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَتْ : ¤ كَانَ اسْمُ بَشِيرٍ زَحَمَ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ جہدمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کا نام پہلے زحم تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12865
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (207/24)»
حدیث نمبر: 12866
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : شِهَابٌ . قَالَ : " بَلْ أَنْتَ هِشَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : شہاب ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم ہشام ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (171/22)»
حدیث نمبر: 12867
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ وَلَهُ اسْمٌ لَا يُحِبُّ حَوَّلَهُ ، وَلَقَدْ أَتَيْنَاهُ وَإِنَّا لَسَبْعَةُ نَفَرٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، أَكْبَرُنَا الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ ، فَبَايَعْنَاهُ جَمِيعًا مَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آتا اور اس کا نام ایسا ہوتا جو آپ کو پسند نہ ہوتا تو آپ اسے تبدیل کر دیتے تھے ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم سات آدمی تھے جن کا تعلق بنو سلیم سے تھا ، ہم میں سب سے بڑے سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ تھے ، تو ہم سب نے ایک ساتھ آپ کی بیعت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (119/17)»
حدیث نمبر: 12868
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : ¤ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ ابْنَيَّ هَذَيْنِ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسن پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حمزہ رکھا ، جب حسین پیدا ہوا تو انہوں نے ان کا نام اپنے چچا کے نام پر جعفر رکھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے ان دونوں بیٹوں کے نام تبدیل کر دوں ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے نام حسن اور حسین رکھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12868
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1996) اخرجه ابو يعلى فى المسند (498) اخرجه احمد فى المسند (1370)»
حدیث نمبر: 12869
وَعَنْهُ قَالَ : ¤ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْتُ : حَرْبًا قَالَ : " بَلْ هُوَ حَسَنٌ " . قَالَ : فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْتُ : حَرْبًا . قَالَ : " بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ " . فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا . فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْتُ : حَرْبًا . قَالَ : " بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ " . ثُمَّ قَالَ : " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ ، بِشْرٌ وَبَشِيرٌ وَمُبَشِّرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ : جَبْرٌ وَجُبَيْرٌ وَمُجْبَرٌ " . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسن پیدا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم میرا بیٹا مجھے دکھاؤ ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : حرب ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ حسن ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم میرا بیٹا مجھے دکھاؤ ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : حرب تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ حسین ہے ، جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : میرا بیٹا مجھے دکھاؤ ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کی : حرب ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ یہ محسن ہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں ان کے نام سیدنا ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام پر بشر ، بشیر اور مبشر رکھتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں ان کے نام سیدنا ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام پر جبر ، جبیر اور مجبر رکھتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ہانی بن ہانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1997) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2773 و 2774) أخرجه احمد فى المسند ( 769 و 953)»
حدیث نمبر: 12870
وَعَنْهُ قَالَ : ¤ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا - وَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَكْتَنِيَ بِأَبِي حَرْبٍ - فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَنَّكَهُ فَقَالَ : " مَا سَمَّيْتُمُ ابْنِي ؟ " . فَقُلْنَا : حَرْبًا . فَقَالَ : " هُوَ الْحَسَنُ " . ثُمَّ وُلِدَ الْحُسَيْنُ فَسَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَنَّكَهُ ، فَقَالَ : " مَا سَمَّيْتُمُ ابْنِي ؟ " . فَقُلْنَا : حَرْبًا . فَقَالَ : " هُوَ الْحُسَيْنُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا کیونکہ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میری کنیت ابوحرب ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے اسے گھٹی دی پھر آپ نے دریافت کیا : تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے ؟ ہم نے عرض کی : حرب ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ حسن ہے ۔ پھر حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھ دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے اسے گھٹی دی آپ نے دریافت کیا : تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے ؟ ہم نے عرض کی : حرب ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ حسین ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1998)»
حدیث نمبر: 12871
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَمَّيْتُهُمَا - يَعْنِي الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - بِاسْمِ ابْنَيْ هَارُونَ : شِبْرٌ وَشُبَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَرْدَعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : سَوْدَةُ فِي مَنَاقِبِ الْحَسَنِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ان دونوں کے ( راوی بیان کرتے ہیں : یعنی سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ) نام سیدنا ہارون علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کے نام پر شبر اور شبیر رکھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بردعہ بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ آگے چل کر ایک خاتون کی نقل کردہ حدیث آئے گی جس کا نام سودہ ہے ۔ وہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12871
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6168)»
حدیث نمبر: 12872
وَعَنْ رَائِطَةَ بِنْتِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ : ¤ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُنَيْنًا ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قُلْتُ : غُرَابٌ . قَالَ : " أَنْتَ مُسْلِمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرَائِطَةُ لَمْ يُضَعِّفْهَا أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ رائطہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا کیا نام ہے ؟ میں نے جواب دیا : غراب ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مسلم ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہا نامی خاتون کو کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1995) اخرجه أبو يعلى فى المسند (6840) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (433/19)»
حدیث نمبر: 12873
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعَ : ¤ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّنَا أَكْبَرُ ؟ " . قَالَ : أَنْتَ أَكْبَرُ وَأَخْيَرُ مِنِّي ، وَأَنَا أَقْدَمُ سِنًّا . فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعِيدًا . وَقَالَ : الصِّرْمُ قَدْ ذَهَبَ . يَعْنِي : كَانَ اسْمُهُ الصِّرْمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ہم میں سے کون بڑا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : آپ مجھ سے بڑے ہیں ، اور مجھ سے زیادہ بہتر ہیں لیکن میری عمر کے سال زیادہ ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام سعید رکھا ۔ انہوں نے یہ بتایا تھا : ان کا نام صرم ہے ۔ وہ کہتے ہیں : پھر وہ چیز مجھ سے چلی گئی ان کی مراد یہ ہے کہ ان کا نام صرم تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1994) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5528)»
حدیث نمبر: 12874
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : ¤ كَانَ اسْمِي عَبْدُ عَمْرٍو ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرا نام پہلے عبدعمرو تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبدالرحمن رکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (254)»
حدیث نمبر: 12875
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ : ¤ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ غَرِيبًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ الْقَبْرِ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : الْعَاصِي ، وَقَالَ لِابْنِ عُمَرَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقَالَ : الْعَاصِي . وَقَالَ لِلْعَاصِي : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقَالَ : الْعَاصِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتُمْ عَبِيدُ اللَّهِ ، انْزِلُوا " . قَالَ : فَوَارَيْنَا صَاحِبَنَا ، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنَ الْقَبْرِ ، وَقَدْ بُدِّلَتْ أَسْمَاؤُنَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ، اس کا غریب الوطنی کے عالم میں انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے تھے ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : عاص ۔ آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عاص ۔ آپ نے عاص سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عاص ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اللہ کے بندے ہو ، تم اسے قبر میں اتارو ! راوی کہتے ہیں : تو ہم نے اپنے ساتھی کو قبر میں اتارا ، جب ہم قبر سے باہر نکلے تو ہمارے نام تبدیل ہو چکے تھے ( یعنی ہمارے نام عبداللہ رکھے جا چکے تھے ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ اس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام بزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1991)»
حدیث نمبر: 12876
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ : ¤ أَنَّهُ أَتَى أُنَاسٌ يُرِيدُونَ أَنْ يُغَيِّرُوا أَسْمَاءَهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَانِي ، وَأَنَا غُلَامٌ حَدَثٌ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : عَتَلَةُ بْنُ عَبْدٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ أَنْتَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ ، أَرِنِي سَيْفَكَ " ، فَسَلَّهُ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ ، إِذَا هُوَ سَيْفٌ فِيهِ دِقَّةٌ وَضَعْفٌ ، فَقَالَ : " لَا تَضْرِبْ بِهَذَا ، وَلَكِنِ اطْعَنْ بِهِ طَعْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ وہ کہتے ہیں : وہ کچھ افراد سمیت آئے وہ لوگ یہ چاہتے تھے کہ اپنے نام تبدیل کر لیں ، راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے بلایا میں کمسن لڑکا تھا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : عطلہ بن عبد ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عتبہ بن عبد ہو ، تم اپنی تلوار مجھے دکھاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میان سے نکالا ، اسے دیکھا تو وہ ایک ایسی تلوار تھی جو پتلی تھی اور کمزور تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے ذریعے ضرب نہ لگانا بلکہ اسے چبھو دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (120/17)»
حدیث نمبر: 12877
وَعَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : شَيْبَةُ . قَالَ : " أَنْتَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : شیبہ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عتبہ بن عبد ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12877
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (120/17)»
حدیث نمبر: 12878
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : نُعْمٌ . قَالَ : " بَلْ عَبْدُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : نعم ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عبداللہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12878
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1696) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1173)»
حدیث نمبر: 12879
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ جَهْمٍ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ¤ وَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَسَأَلَنَا مَنْ نَحْنُ ، فَقُلْنَا : نَحْنُ بَنُو عَبْدِ مَنَافٍ . قَالَ : " أَنْتُمْ بَنُو عَبْدِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن جہم بلوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم کون ہیں تو ہم نے عرض کی : ہم بنو عبدمناف ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بنو عبداللہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12879
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2155)»
حدیث نمبر: 12880
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَايِعَهُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قُلْتُ : الْحَكَمُ . قَالَ : " بَلْ أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَجَعَلَ أَنَّ هَذَا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ شَهِيدًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : حکم تو آپ نے فرمایا : بلکہ تم عبداللہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ صاحب غزوہ بدر میں شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے تھے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12880
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3169)»
حدیث نمبر: 12881
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : الْحَكَمُ . قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ " . قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَذَكَرَ هَذَا فِيمَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَذَكَرَ الَّذِي قَبْلَهُ فِيمَنِ اسْمُهُ الْحَكَمُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حکم ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عبداللہ ہو ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں عبداللہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس روایت اور اس سے پہلے والی روایت کے درمیان فرق کیا ہے ، اور
یہ روایت اس باب میں نقل کی ہے ، جس میں راوی کا نام عبداللہ ہو ، اور اس سے پہلے والی روایت اس باب میں نقل کی ہے ، جس میں راوی کا نام حکم ہو ، اس روایت کے رجال ثقہ ہوں گے اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12881
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12882
وَعَنْ قَيُّومٍ - وَيُكَنَّى أَبَا عُبَيْدٍ - قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي رَاشِدٍ الْأَزْدِيِّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وَفَدَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي رَاشِدٍ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو مُعَاوِيَةَ . قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبُو رَاشِدٍ " . قَالَ : " فَمَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ " . قَالَ : مَوْلَايَ . قَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " . قَالَ : قَيُّومٌ . قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ عَبْدُ الْقَيُّومِ أَبُو عُبَيْدَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیوم رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابوعبید ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوراشد ازدی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوراشد سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عبدالعزیٰ ابومعاویہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عبدالرحمن ابوراشد ہو ، پھر آپ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ میرا غلام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : قیوم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ عبدالقیوم ابوعبیدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12883
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ لَكَ عَقِبٌ ؟ " . قُلْتُ : لِي أَخٌ . قَالَ : " جِئْ بِهِ " . قَالَ : فَوَقَفْتُ بِأَخِي - وَكَانَ غُلَامًا صَغِيرًا - حَتَّى جَاءَ مَعِي ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَرَبَ ، فَأَخَذْتُهُ ، فَضَمَمْتُ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ وَبَايَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ اسْمُهُ مِيسَمٌ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُهُ يَا أَبَا قِرْصَافَةَ ؟ " . قُلْتُ : مِيسَمٌ . قَالَ : " بَلِ اسْمُهُ مُسْلِمٌ " . قُلْتُ : مُسْلِمٌ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تمہارے پسماندگان میں کوئی ہے ؟ میں نے عرض کی : میرا ایک بھائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے لے کے آؤ ، راوی کہتے ہیں : میں اپنے بھائی کو لے کے آیا ، وہ ایک کمسن لڑکا تھا وہ میرے ساتھ آیا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا ، تو وہ بھاگ گیا ، میں نے اسے پکڑا ، اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں ملائے پھر میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے آیا ، اس نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ، اس کا نام میسم تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابوقرصافہ ! اس کا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میسم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اس کا نام مسلم ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مسلم آپ کے ساتھ رہے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2514)»
حدیث نمبر: 12884
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : ¤ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ غَيْلَانَ ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ، غَيْرَ قَوْلِهِ : كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ غَيْلَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرا نام غیلان تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” زمانہ جاہلیت میں میرا نام غیلان تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7498)»
حدیث نمبر: 12885
وَعَنْ أَصْرَمَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ عَبْدًا ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، وَسَمِّهِ فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : أَصْرَمَ . قَالَ : " بَلْ زُرْعَةُ ، فَمَا تُرِيدُهُ ؟ " . قَالَ : زَرَّاعًا . قَالَ : " فَهُوَ عَاصِمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک غلام خریدا ہے آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے برکت کی دعا کیجئے اور اس کا نام تبدیل کر دیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اصرم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم زرعہ ہو ، تم اس کا نام کیا رکھنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : زراع ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ عاصم ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (874)»
حدیث نمبر: 12886
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شُقْرَةَ يُقَالُ لَهُ : أَصْرَمُ ، كَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَتَاهُ بِعَبْدٍ لَهُ حَبَشِيٍّ ، اشْتَرَاهُ بِتِلْكَ الْبِلَادِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرَيْتُ هَذَا ، فَأُحِبُّ أَنْ تُسَمِّيَهُ وَتَدْعُوَ لَهُ بِالْبَرَكَةِ . قَالَ : " مَا اسْمُكَ أَنْتَ ؟ " . قُلْتُ : أَصْرَمُ . قَالَ : " أَنْتَ زُرْعَةُ " . قَالَ : " فَمَا تُرِيدُهُ ؟ " . قَالَ : أُرِيدُهُ رَاعِيًا . قَالَ : " هُوَ عَاصِمٌ " . وَقَبَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَفَّهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ الْغُلَامِ الْحَبَشِيِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو شقرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام اصرم تھا ۔ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ اپنے حبشی غلام کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جسے انہوں نے اس علاقے سے خریدا تھا ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے خریدا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام تبدیل کر دیں اور اس کے لئے برکت کی دعا کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اصرم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم زرعہ ہو ، آپ نے دریافت کیا : تم اس کا کیا نام رکھنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں اس کا نام راعی رکھنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ عاصم ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کر لی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں حبشی غلام کا واقعہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (523)»
حدیث نمبر: 12887
وَعَنْ مَسْعُودٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ مُطَاعًا قَالَ لَهُ : " أَنْتَ مُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ " . وَقَالَ لَهُ : " امْضِ إِلَى أَصْحَابِكَ " . وَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ ، وَقَالَ : " مَنْ دَخَلَ تَحْتَ رَايَتِكَ هَذِهِ فَقَدْ أَمِنَ الْعَذَابَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطاع رکھا اور ان سے یہ فرمایا : تم اپنی قوم میں مطاع ( پیشوا ) ہو گے ، آپ نے ان سے فرمایا : تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ آپ نے انہیں ایک ابلق گھوڑا دیا اور انہیں جھنڈا عطا کیا اور فرمایا : جو شخص میرے اس جھنڈے کے نیچے داخل ہو گا وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (331/20)»
حدیث نمبر: 12888
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : ¤ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُتِيَ بِثَوْبٍ مِنَ الْقِصَارِ ، وَعَلَيْهِ مَكْتُوبٌ : شَيْطَانٌ ، فَأَمَرَ بِهِ فَمُحِيَ ، وَقَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ صَحَّحَ الْوَقْفَ عَلَى الرَّفْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کے پاس ایک کپڑا لایا گیا جس پر شیطان لکھا گیا تھا ، تو آپ کے حکم کے تحت اسے مٹا دیا گیا ، آپ نے فرمایا : میں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ طبرانی نے مرفوع حدیث کی بہ نسبت موقوف روایت کو زیادہ مستند قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12888
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (129/22)»
حدیث نمبر: 12889
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وُلِدَتْ لِي اللَّيْلَةَ جَارِيَةٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّيْلَةُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَةُ مَرْيَمَ ، سَمِّهَا مَرْيَمَ " . فَكَانَتْ تُسَمَّى مَرْيَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابومریم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات مجھ پر سورت مریم نازل ہوئی ہے ، تو تم اس بچی کا نام مریم رکھو تو اس بچی کا نام مریم رکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12889
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (332/22)»
حدیث نمبر: 12890
وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : ¤ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْمُهُ أَسْوَدُ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْيَضَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کا نام اسود تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابیض رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 12891
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : ¤ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدُ كُلَالٍ ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَاصِحٌ أَبُو الْعَلَاءِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبدکلال تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبدالرحمن رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح ابوالعلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12892
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ اسْمُهُ : عَبْدُ كَلُّوبٍ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَمَرَّ بِهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ : " تَعَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " . فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَطْلُبِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ طَلَبْتَهَا فَأَوْلَيْتَهَا ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ لَمْ تَطْلُبْهَا أُعِنْتَ عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مُرْسَلًا مِنْ طَرِيقِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ کا نام عبدکلوب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا تھا ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : عبدالرحمن ادھر آؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم کبھی حکومت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے طلب کیا اور تم نے اسے ترجیح دی تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا ، اور اگر تم نے اسے طلب نہ کیا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط ” مرسل “ روایت کے طور پر اسحاق بن عبداللہ بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف