مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ التَّسْمِيَةِ بِالْكَرَمِ باب: کرم ( معزز ہونے ) کے حوالے سے نام رکھنا
عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " إِنَّ اسْمَ الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ فِي الْكُتُبِ الْكَرْمُ ، مِنْ أَجْلِ مَا كَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى الْخَلِيقَةِ ، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ مَا فِي الْحَائِطِ مِنَ الْعِنَبِ الْكَرْمَ ، أَلَا وَاسْمُهُ الْحَفْرُ ، وَالرَّجُلُ هُوَ الْكَرْمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّكُمْ تَدْعُونَ الْعِنَبَ ، وَإِنَّمَا اسْمُهُ الْجَوْهَرُ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَجَاهِيلُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے کہ مومن شخص کا نام کتابوں میں کرم والا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت عطا کی ہے ، اور تم لوگ باغ میں انگور کو کرم کہتے ہو ، خبردار ! اس کا نام حفر ہے ، اور آدمی کرم ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم لوگ انگور کو عنب کہتے ہو حالانکہ اس کا نام جوہر ہے ۔ “ امام طبرانی کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔