مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12887
وَعَنْ مَسْعُودٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ مُطَاعًا قَالَ لَهُ : " أَنْتَ مُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ " . وَقَالَ لَهُ : " امْضِ إِلَى أَصْحَابِكَ " . وَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ ، وَقَالَ : " مَنْ دَخَلَ تَحْتَ رَايَتِكَ هَذِهِ فَقَدْ أَمِنَ الْعَذَابَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام مطاع رکھا اور ان سے یہ فرمایا : تم اپنی قوم میں مطاع ( پیشوا ) ہو گے ، آپ نے ان سے فرمایا : تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ آپ نے انہیں ایک ابلق گھوڑا دیا اور انہیں جھنڈا عطا کیا اور فرمایا : جو شخص میرے اس جھنڈے کے نیچے داخل ہو گا وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔