مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شُقْرَةَ يُقَالُ لَهُ : أَصْرَمُ ، كَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَتَاهُ بِعَبْدٍ لَهُ حَبَشِيٍّ ، اشْتَرَاهُ بِتِلْكَ الْبِلَادِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرَيْتُ هَذَا ، فَأُحِبُّ أَنْ تُسَمِّيَهُ وَتَدْعُوَ لَهُ بِالْبَرَكَةِ . قَالَ : " مَا اسْمُكَ أَنْتَ ؟ " . قُلْتُ : أَصْرَمُ . قَالَ : " أَنْتَ زُرْعَةُ " . قَالَ : " فَمَا تُرِيدُهُ ؟ " . قَالَ : أُرِيدُهُ رَاعِيًا . قَالَ : " هُوَ عَاصِمٌ " . وَقَبَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَفَّهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ الْغُلَامِ الْحَبَشِيِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو شقرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام اصرم تھا ۔ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ اپنے حبشی غلام کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جسے انہوں نے اس علاقے سے خریدا تھا ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے خریدا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام تبدیل کر دیں اور اس کے لئے برکت کی دعا کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اصرم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم زرعہ ہو ، آپ نے دریافت کیا : تم اس کا کیا نام رکھنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں اس کا نام راعی رکھنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ عاصم ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کر لی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں حبشی غلام کا واقعہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔