مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ لَكَ عَقِبٌ ؟ " . قُلْتُ : لِي أَخٌ . قَالَ : " جِئْ بِهِ " . قَالَ : فَوَقَفْتُ بِأَخِي - وَكَانَ غُلَامًا صَغِيرًا - حَتَّى جَاءَ مَعِي ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَرَبَ ، فَأَخَذْتُهُ ، فَضَمَمْتُ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ وَبَايَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ اسْمُهُ مِيسَمٌ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُهُ يَا أَبَا قِرْصَافَةَ ؟ " . قُلْتُ : مِيسَمٌ . قَالَ : " بَلِ اسْمُهُ مُسْلِمٌ " . قُلْتُ : مُسْلِمٌ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تمہارے پسماندگان میں کوئی ہے ؟ میں نے عرض کی : میرا ایک بھائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے لے کے آؤ ، راوی کہتے ہیں : میں اپنے بھائی کو لے کے آیا ، وہ ایک کمسن لڑکا تھا وہ میرے ساتھ آیا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا ، تو وہ بھاگ گیا ، میں نے اسے پکڑا ، اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں ملائے پھر میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے آیا ، اس نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ، اس کا نام میسم تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابوقرصافہ ! اس کا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میسم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اس کا نام مسلم ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مسلم آپ کے ساتھ رہے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔