مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ قَيُّومٍ - وَيُكَنَّى أَبَا عُبَيْدٍ - قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي رَاشِدٍ الْأَزْدِيِّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وَفَدَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي رَاشِدٍ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو مُعَاوِيَةَ . قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبُو رَاشِدٍ " . قَالَ : " فَمَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ " . قَالَ : مَوْلَايَ . قَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " . قَالَ : قَيُّومٌ . قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ عَبْدُ الْقَيُّومِ أَبُو عُبَيْدَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا قیوم رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابوعبید ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوراشد ازدی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوراشد سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عبدالعزیٰ ابومعاویہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عبدالرحمن ابوراشد ہو ، پھر آپ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ میرا غلام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : قیوم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ عبدالقیوم ابوعبیدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔