مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : الْحَكَمُ . قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ " . قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَذَكَرَ هَذَا فِيمَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَذَكَرَ الَّذِي قَبْلَهُ فِيمَنِ اسْمُهُ الْحَكَمُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا حکم بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حکم ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عبداللہ ہو ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں عبداللہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس روایت اور اس سے پہلے والی روایت کے درمیان فرق کیا ہے ، اور
یہ روایت اس باب میں نقل کی ہے ، جس میں راوی کا نام عبداللہ ہو ، اور اس سے پہلے والی روایت اس باب میں نقل کی ہے ، جس میں راوی کا نام حکم ہو ، اس روایت کے رجال ثقہ ہوں گے اگر اللہ نے چاہا ۔