مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12880
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَايِعَهُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قُلْتُ : الْحَكَمُ . قَالَ : " بَلْ أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَجَعَلَ أَنَّ هَذَا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ شَهِيدًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حکم بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : حکم تو آپ نے فرمایا : بلکہ تم عبداللہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ صاحب غزوہ بدر میں شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے تھے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔