مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12879
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ جَهْمٍ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ¤ وَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَسَأَلَنَا مَنْ نَحْنُ ، فَقُلْنَا : نَحْنُ بَنُو عَبْدِ مَنَافٍ . قَالَ : " أَنْتُمْ بَنُو عَبْدِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
علی بن جہم بلوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم کون ہیں تو ہم نے عرض کی : ہم بنو عبدمناف ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بنو عبداللہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔