مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ : ¤ أَنَّهُ أَتَى أُنَاسٌ يُرِيدُونَ أَنْ يُغَيِّرُوا أَسْمَاءَهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَانِي ، وَأَنَا غُلَامٌ حَدَثٌ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : عَتَلَةُ بْنُ عَبْدٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ أَنْتَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ ، أَرِنِي سَيْفَكَ " ، فَسَلَّهُ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ ، إِذَا هُوَ سَيْفٌ فِيهِ دِقَّةٌ وَضَعْفٌ ، فَقَالَ : " لَا تَضْرِبْ بِهَذَا ، وَلَكِنِ اطْعَنْ بِهِ طَعْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ وہ کہتے ہیں : وہ کچھ افراد سمیت آئے وہ لوگ یہ چاہتے تھے کہ اپنے نام تبدیل کر لیں ، راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے بلایا میں کمسن لڑکا تھا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : عطلہ بن عبد ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عتبہ بن عبد ہو ، تم اپنی تلوار مجھے دکھاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میان سے نکالا ، اسے دیکھا تو وہ ایک ایسی تلوار تھی جو پتلی تھی اور کمزور تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے ذریعے ضرب نہ لگانا بلکہ اسے چبھو دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔