حدیث نمبر: 12875
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ : ¤ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ غَرِيبًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ الْقَبْرِ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : الْعَاصِي ، وَقَالَ لِابْنِ عُمَرَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقَالَ : الْعَاصِي . وَقَالَ لِلْعَاصِي : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقَالَ : الْعَاصِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتُمْ عَبِيدُ اللَّهِ ، انْزِلُوا " . قَالَ : فَوَارَيْنَا صَاحِبَنَا ، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنَ الْقَبْرِ ، وَقَدْ بُدِّلَتْ أَسْمَاؤُنَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ، اس کا غریب الوطنی کے عالم میں انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے تھے ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : عاص ۔ آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عاص ۔ آپ نے عاص سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عاص ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اللہ کے بندے ہو ، تم اسے قبر میں اتارو ! راوی کہتے ہیں : تو ہم نے اپنے ساتھی کو قبر میں اتارا ، جب ہم قبر سے باہر نکلے تو ہمارے نام تبدیل ہو چکے تھے ( یعنی ہمارے نام عبداللہ رکھے جا چکے تھے ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ اس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام بزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1991)»