مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : ¤ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ ابْنَيَّ هَذَيْنِ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسن پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حمزہ رکھا ، جب حسین پیدا ہوا تو انہوں نے ان کا نام اپنے چچا کے نام پر جعفر رکھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے ان دونوں بیٹوں کے نام تبدیل کر دوں ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے نام حسن اور حسین رکھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔