حدیث نمبر: 12869
وَعَنْهُ قَالَ : ¤ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْتُ : حَرْبًا قَالَ : " بَلْ هُوَ حَسَنٌ " . قَالَ : فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْتُ : حَرْبًا . قَالَ : " بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ " . فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا . فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْتُ : حَرْبًا . قَالَ : " بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ " . ثُمَّ قَالَ : " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ ، بِشْرٌ وَبَشِيرٌ وَمُبَشِّرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ : جَبْرٌ وَجُبَيْرٌ وَمُجْبَرٌ " . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسن پیدا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم میرا بیٹا مجھے دکھاؤ ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : حرب ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ حسن ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم میرا بیٹا مجھے دکھاؤ ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : حرب تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ حسین ہے ، جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : میرا بیٹا مجھے دکھاؤ ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کی : حرب ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ یہ محسن ہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں ان کے نام سیدنا ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام پر بشر ، بشیر اور مبشر رکھتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں ان کے نام سیدنا ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام پر جبر ، جبیر اور مجبر رکھتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ہانی بن ہانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1997) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2773 و 2774) أخرجه احمد فى المسند ( 769 و 953)»