مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12867
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ وَلَهُ اسْمٌ لَا يُحِبُّ حَوَّلَهُ ، وَلَقَدْ أَتَيْنَاهُ وَإِنَّا لَسَبْعَةُ نَفَرٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، أَكْبَرُنَا الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ ، فَبَايَعْنَاهُ جَمِيعًا مَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آتا اور اس کا نام ایسا ہوتا جو آپ کو پسند نہ ہوتا تو آپ اسے تبدیل کر دیتے تھے ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم سات آدمی تھے جن کا تعلق بنو سلیم سے تھا ، ہم میں سب سے بڑے سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ تھے ، تو ہم سب نے ایک ساتھ آپ کی بیعت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔