حدیث نمبر: 12852
وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا وَلَدُكَ ؟ " فَقَالَ : عَبْدُ الْعُزَّى ، وَسَبْرَةُ ، وَالْحَارِثُ . فَقَالَ : " لَا تُسَمِّي عَبْدَ الْعُزَّى ، وَسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ ؛ فَإِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ عَبْدُ اللَّهِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، وَالْحَارِثُ ، وَهَمَّامٌ " . وَدَعَا لِوَلَدِهِ ، فَلَمْ يَزَالُوا فِي شَرَفٍ إلِىَ الْيَوْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن ابوسره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے کتنے بچے ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : عبدالعزیٰ ہے سبرہ ہے اور حارث ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم عبدالعزیٰ نام نہ رکھو بلکہ عبداللہ نام رکھو کیونکہ سب سے بہتر نام عبداللہ ، عبیداللہ ، حارث اور ہمام ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اولاد کے لئے دعا کی تو وہ لوگ آج تک معزز ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6559)»