مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ . قَالَ : " لَا تُسَمِّهِ الْحُبَابَ ، فَإِنَّ الْحُبَابَ شَيْطَانٌ ، وَلَكِنْ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النَّفَقَاتِ . باب: کون سے نام رکھنا مستحب ہے ؟
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِأَبِي : " هَذَا ابْنُكَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " . قَالَ : الْحُبَابُ . قَالَ : " لَا تُسَمِّهِ الْحُبَابَ ، فَإِنَّ الْحُبَابَ شَيْطَانٌ ، وَلَكِنْ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النَّفَقَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤خیثمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے دریافت کیا : یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حباب ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا نام حباب نہ رکھو کیونکہ حباب شیطان ہوتا ہے بلکہ یہ عبد الرحمن ہے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے خرچ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔