حدیث نمبر: 12851
وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا وَلَدُكَ ؟ " . قَالَ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ الْعُزَّى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ مِنْ أَحَقِّ أَسْمَائِكُمْ ، أَوْ مِنْ خَيْرِ أَسْمَائِكُمْ إِنْ سَمَّيْتُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سبرہ بن ابوسبرہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بچے کتنے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : فلاں ہے اور فلاں ہے ، اور عبدالعزیٰ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ عبدالرحمن ہے ، تمہارے ناموں میں نام رکھنے کا سب سے زیادہ حق دار ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے ناموں میں سب سے بہتر نام یہ ہے ( یعنی عبدالرحمن ہے ) اگر تم نام رکھو “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/4)»