مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ باب: کون سے نام رکھنا مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 12850
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : عَبَدُ الْعُزَّى . قَالَ : " بَلْ أَنْتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ قُلْتُ : عَزِيزٌ . قَالَ : " اللَّهُ الْعَزِيزُ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
خیثمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : عبدالعزیٰ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم عبدالرحمن ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ، تو میں نے عرض کی : عزیز ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عزیز اللہ تعالیٰ ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔