مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ باب: کون سے نام رکھنا مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 12849
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُ ابْنِكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : اسْمُهُ عَزِيزٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُسَمِّهِ عَزِيزًا ، وَلَكِنْ سَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ : عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
خیثمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں بچہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا: اس کا نام عزیز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کا نام عزیز نہ رکھو بلکہ اس کا نام عبدالرحمن رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔