مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَسْمَاءِ وَمَا جَاءَ فِي الْأَسْمَاءِ الْحَسَنَةِ باب: ناموں کا بیان اور اچھے ناموں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ يَعِيشَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ يَحْلِبُهَا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا . فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : مُرَّةُ . قَالَ : " اقْعُدْ " . ¤ ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : مُرَّةُ . قَالَ : " اقْعُدْ " . ¤ ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : جَمْرَةُ . فَقَالَ : " اقْعُدْ " . ¤ ثُمَّ قَامَ يَعِيشُ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : يَعِيشُ . قَالَ : " احْلِبْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا یعیش غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی منگوائی ، آپ نے دریافت کیا : کون اس کا دودھ دوہ لے گا ؟ ایک صاحب نے عرض کی : میں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : مرہ ( یعنی کڑوا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا: مرہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جمرہ ( یعنی انگارہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر سیدنا یعیش رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یعیش ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا دودھ دوہ لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔