حدیث نمبر: 12832
وَعَنْ أَبِي حَدْرَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ يَسُوقُ إِبِلَنَا هَذِهِ ؟ " - أَوْ : " مَنْ يُبَلِّغُ إِبِلَنَا هَذِهِ ؟ " - فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : فُلَانٌ . قَالَ : " اجْلِسْ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَنَا . قَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : نَاجِيَةُ . قَالَ : " أَنْتَ لَهَا ، فَسُقْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَلَمْ أَرَ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوحددرد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کون ہمارے ان اونٹوں کو ہانک کر لے جائے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کون ہمارے اونٹوں کو ( منزل مقصود تک ) پہنچائے گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : فلاں ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ایسا کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ناجیہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ کام کرو گے ، تم انہیں لے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے أحمد بن بشیر کے حوالے سے اس کے چچا سے نقل کی ہے ، اور میں نے ان دونوں کے بارے میں کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں پائی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (353/22)»