مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَسْمَاءِ وَمَا جَاءَ فِي الْأَسْمَاءِ الْحَسَنَةِ باب: ناموں کا بیان اور اچھے ناموں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12830
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا أَبْرَدْتُمْ إِلَيَّ بَرِيدًا ، فَابْعَثُوهُ حَسَنَ الْوَجْهِ حَسَنَ الِاسْمِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَطَرِيقُ الْبَزَّارِ ضَعِيفَةٌ . ¤محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم لوگ میری طرف کسی قاصد کو بھیجو ، تو ایسے شخص کو بھیجو جس کا چہرہ بھی اچھا ہو اور نام بھی اچھا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام بزار کا طریق ضعیف ہے ۔