مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الِاسْتِئْذَانِ وَفِيمَنِ اطَّلَعَ فِي دَارٍ بِغَيْرِ إِذْنٍ باب: اجازت مانگنے کا بیان اور جو شخص اجازت لیے بغیر گھر میں جھانکے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُجْرَتِهِ إِذِ اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَصَاصِ الْبَيْتِ ، فَنَظَرَ وَمَعَهُ مِدْرَى فَقَالَ : ¤ " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي ، لَقُمْتُ حَتَّى أُدْخِلَ هَذَا فِي عَيْنِكَ ، فَإِنَّمَا الْإِذْنُ لِيَكُفَّ الْبَصَرُ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ . ¤سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے ، اسی دوران کسی شخص نے دروازے کی جھری میں سے جھانک کر دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ لیا ، آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک لکڑی تھی ( جس کے ذریعے خارش کی جاتی تھی ) آپ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے یہ پتہ چل جاتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو ، تو میں نے اٹھ کر یہ ( لکڑی ) تمہاری آنکھ میں مار دینی تھی ، اجازت لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے ، تاکہ نگاہ رکی رہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح سفیان بن حسین کی زہری کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ روایت ضعیف ہے ۔