حدیث نمبر: 12816
وَعَنْ جَرِيرٍ أَنَّ عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ إِلَى جَانِبِكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أَنْزِلُ لَكَ عَنْ خَيْرٍ مِنْهَا ؟ - يَعْنِي امْرَأَتَهُ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ فَاسْتَأْذِنْ " . فَقَالَ لَهُ : إِنَّهَا يَمِينٌ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْتَأْذِنَ عَلَى مُضَرِيٍّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : " هَذَا أَحْمَقُ مُتَّبَعٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ حَافِظٌ رَحَّالٌ ، قِيلَ فِيهِ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُطِيعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، اس نے دریافت کیا : یہ آپ کے پہلو میں موجود خاتون کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ ہے ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے لئے اس سے زیادہ بہتر عورت سے لاتعلقی اختیار نہ کر لوں ۔ اس کی مراد اس کی اپنی بیوی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم باہر جاؤ اور اجازت مانگو ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں نے یہ قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ میں مضر قبیلے کے کسی شخص سے اندر آنے کی اجازت نہیں مانگوں گا ( اس کے چلے جانے کے بعد ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دریافت کیا : یہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا احمق تھا جس کی پیروی کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ حافظ الحدیث ہے ، جس نے علم حدیث کی طلب میں بہت زیادہ سفر کیا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا: گیا ہے کہ وہ اتنے پائے کا نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن محمد بن مطیع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2269)»