کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اجازت مانگنے کا بیان اور جو شخص اجازت لیے بغیر گھر میں جھانکے
حدیث نمبر: 12803
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُودٌ فَقَالَ : ¤ " لَوْ أَعْلَمُ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ " . أَوْ نَحْوَ هَذَا . ¤ هَذَا رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو حَاتِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی موجود تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو ، تو میں نے یہ تمہاری آنکھ میں چبھود دینی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : یا شاید اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ابوحاتم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12803
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2009)»
حدیث نمبر: 12804
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا ، فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ ، فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ لَهَدَرَتْ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ ، فَرَأَى عَوْرَةً ، فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ " . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ وَلَمْ أَجِدْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی شخص پردہ ہٹا کر اپنی نگاہ ( گھر کے اندر ) داخل کرے ، اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی گئی ہو ، تو اس نے ایک ایسے کام کا ارتکاب کیا ہے ، جو اس کے لئے جائز نہیں تھا ، اور اگر کوئی شخص اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے ، تو وہ آنکھ رائیگاں جائے گی اور اگر کوئی شخص کسی ایسے دروازے کے پاس سے گزرے جس پر پردہ نہ لگا ہو ، اور وہ کوئی پوشیدہ چیز دیکھ لے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، کیونکہ غلطی گھر والوں کی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : انہوں نے اس روایت کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی ہے ، اور میں نے اس روایت کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (181/5)»
حدیث نمبر: 12805
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ إِنَّمَا كَانَ نَفْيُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَكَمَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الطَّائِفِ ، بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُجْرَتِهِ إِذَا هُوَ بِإِنْسَانٍ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَزَغَ الْوَزَغَ " ، فَنَظَرُوا ، فَإِذَا هُوَ الْحَكَمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ ، لَا تُسَاكِنِّي فِي الْمَدِينَةِ مَا بَقِيتُ " . فَنَفَاهُ إِلَى الطَّائِفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُدْرِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم بن ابوالعاص کو مدینہ منورہ سے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا تھا ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں موجود تھے ، اسی دوران کسی شخص نے آپ کو جھانک کر دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چھپکلی ہے چھپکلی ہے ، جب لوگوں نے دیکھا تو وہاں حکم بن ابوالعاص موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نکل جاؤ ! جب تک میں زندہ ہوں ، تم میرے ساتھ مدینہ میں نہیں رہو گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مدرک بن سلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12805
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12724)»
حدیث نمبر: 12806
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَا يَشْهَدِ الصَّلَاةَ حَاقِنًا حَتَّى يَتَخَفَّفَ ، وَمَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَأَمَّ قَوْمًا فَلَا يَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ ، وَمَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَا يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ حَتَّى يَسْتَأْنِسَ وَيُسَلِّمَ ، فَإِذَا نَظَرَ فِي قَعْرِ الْبَيْتِ فَقَدْ دَخَلَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو وہ نماز میں ایسی حالت میں شریک نہ ہو کہ اس نے پیشاب یا پاخانے کو روک کے رکھا ہوا ہو ، جب تک وہ ہلکا پھلکا نہیں ہو جاتا ، اور جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر وہ کسی قوم کی امامت کرے ، تو وہ دعا کرتے ہوئے بطور خاص اپنے لئے ہی دعا نہ کرے ( بلکہ سب کے لئے دعا کرے ) اور جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، وہ کسی گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو ، جب تک اجازت نہیں لے لیتا اور پہلے سلام نہیں کر لیتا ، اگر وہ گھر کے اندرونی حصے میں نظر داخل کرتا ہے ، تو گویا وہ داخل ہو گیا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7505)»
حدیث نمبر: 12807
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَمَنْ أَدْخَلَ عَيْنَيْهِ فِي بَيْتٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ ، فَقَدْ دَمَّرَ ، وَمَنْ صَلَّى بِقَوْمٍ فَخَصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ ، فَقَدْ خَانَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِالرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الشَّيْبَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص اجازت لئے بغیر اپنی نگاہوں کو گھر میں داخل کرتا ہے وہ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے ، اور جو شخص لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے صرف اپنے لئے دعا کرتا ہے ، لوگوں کے لئے نہیں کرتا تو وہ ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے دوسری روایت نقل کی ہے ، پہلی سند میں ایک راوی سفر بن نسیر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور ایک راوی عبداللہ بن رجاء شیبانی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7507) اخرجه احمد فى المسند (250/5)»
حدیث نمبر: 12808
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْبَابَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَسْتَأْذِنْ وَأَنْتَ مُسْتَقْبِلٌ الْبَابَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ دروازے کے بالکل سامنے کھڑے ہوئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم اس وقت اجازت نہ مانگو جب تم دروازے کے بالکل سامنے کھڑے ہوئے ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5393)»
حدیث نمبر: 12809
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقُمْتُ مُقَابِلَ الْبَابِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ تَبَاعَدْ ، ثُمَّ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ : ¤ " وَهَلِ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت گھر میں موجود تھے ، میں دروازے کے مدمقابل کھڑا ہوا اور میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا کہ تم ذرا دور ہو جاؤ ، پھر میں آیا ، پھر میں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اجازت لینے کا حکم صرف اسی وجہ سے ہے کہ نگاہ نہ پڑے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5386)»
حدیث نمبر: 12810
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوهَا مِنْ جَوَانِبِهَا ، فَاسْتَأْذِنُوا ، فَإِنْ أُذِنَ لَكُمْ فَادْخُلُوا ، وَإِلَّا فَارْجِعُوا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ هَذَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم گھروں کے دروازے کے بالکل سامنے نہ آؤ ، بلکہ اطراف میں آؤ اور پھر اجازت مانگو اگر تمہیں اجازت مل جائے ، تو داخل ہو جاؤ ورنہ واپس چلے جاؤ ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ایک اور حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالرحمن بن عرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12811
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - : ¤ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الِاسْتِئْذَانِ فِي الْبُيُوتِ ، فَقَالَ : " مَنْ دَخَلَتْ عَيْنُهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ وَيُسَلِّمَ فَلَا إِذْنَ ، وَقَدْ عَصَى رَبَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی نگاہ اجازت لینے اور سلام کرنے سے پہلے داخل ہو گئی ، تو پھر اجازت تو باقی نہ رہی اور اس شخص نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 12812
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے بالاخانے میں موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو ! السلام علیکم ، کیا عمر اندر آ جائے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12812
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (303/1)»
حدیث نمبر: 12813
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَرْسَلَنِي مُدْرِكُ أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى ، فَقُلْتُ : أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرَغَ . فَقَالُوا : هَيْهَاتَ . فَقُلْتُ لَآذَنَّهَا : كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ؟ فَقَالَ : قُلِ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں : مدرک نے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن مدرک نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کروں ۔ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پاس آیا تو وہ اس وقت چاشت کی نماز ادا کر رہی تھیں ، میں نے سوچا میں بیٹھ جاتا ہوں ، جب تک یہ فارغ نہیں ہو جاتیں ، لوگوں نے کہا: کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میں ان سے اجازت لینا چاہتا ہوں ، میں ان سے کیسے اجازت لوں ، تو اس شخص نے کہا: تم یہ کہو : اے نبی ! آپ پر سلام ہو ، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، ہم پر بھی اور تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو ! امہات المؤمنین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر سلام ہو ، اسلام علیکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (125/6)»
حدیث نمبر: 12814
وَعَنْ أَبِي سُوَيْدٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : ¤ أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا ، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ ، فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ ، فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ ، فَفَطِنَ بِي ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي ؟ قُلْتُ : أَنَا . قَالَ : بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي ؟ قُلْتُ : أَبْطَأَ عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ ، فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ . قَالَ : ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، قَلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ ؟ قَالَ : مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ وَبَرَكَةُ بْنُ يَعْلَى التَّمِيمِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابوسوید عبدی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر بیٹھ گئے تاکہ ہمیں اجازت مل جائے ، انہوں نے ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی ، تو میں اٹھ کر دروازے کی جھری کی طرف بڑھا اور میں نے اندر جھانکنا شروع کیا ، انہیں میرے بارے میں پتہ چل گیا ، جب انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم بیٹھ گئے ، تو انہوں نے فرمایا : ابھی تھوڑی دیر پہلے تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا تھا ؟ میں نے کہا: میں نے ، انہوں نے فرمایا : تم نے کس بنیاد پر اس چیز کو حلال قرار دیا کہ تم میرے گھر میں جھانکو ؟ میں نے جواب دیا : آپ نے ہمارے حوالے سے تاخیر کر دی تھی ، اس لئے میں یہ دیکھ رہا تھا ، میں نے جان بوجھ کر یہ نہیں کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان لوگوں نے ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! جہاد کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جو شخص جہاد کرتا ہے وہ اپنی ذات کے لئے جہاد کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابواسود اور برکہ بن یعلیٰ تمیمی نامی دونوں راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5672)»
حدیث نمبر: 12815
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُجْرَتِهِ إِذِ اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَصَاصِ الْبَيْتِ ، فَنَظَرَ وَمَعَهُ مِدْرَى فَقَالَ : ¤ " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي ، لَقُمْتُ حَتَّى أُدْخِلَ هَذَا فِي عَيْنِكَ ، فَإِنَّمَا الْإِذْنُ لِيَكُفَّ الْبَصَرُ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے ، اسی دوران کسی شخص نے دروازے کی جھری میں سے جھانک کر دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ لیا ، آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک لکڑی تھی ( جس کے ذریعے خارش کی جاتی تھی ) آپ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے یہ پتہ چل جاتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو ، تو میں نے اٹھ کر یہ ( لکڑی ) تمہاری آنکھ میں مار دینی تھی ، اجازت لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے ، تاکہ نگاہ رکی رہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح سفیان بن حسین کی زہری کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ روایت ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5585)»
حدیث نمبر: 12816
وَعَنْ جَرِيرٍ أَنَّ عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ إِلَى جَانِبِكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أَنْزِلُ لَكَ عَنْ خَيْرٍ مِنْهَا ؟ - يَعْنِي امْرَأَتَهُ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ فَاسْتَأْذِنْ " . فَقَالَ لَهُ : إِنَّهَا يَمِينٌ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْتَأْذِنَ عَلَى مُضَرِيٍّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : " هَذَا أَحْمَقُ مُتَّبَعٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ حَافِظٌ رَحَّالٌ ، قِيلَ فِيهِ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُطِيعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، اس نے دریافت کیا : یہ آپ کے پہلو میں موجود خاتون کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ ہے ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے لئے اس سے زیادہ بہتر عورت سے لاتعلقی اختیار نہ کر لوں ۔ اس کی مراد اس کی اپنی بیوی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم باہر جاؤ اور اجازت مانگو ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں نے یہ قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ میں مضر قبیلے کے کسی شخص سے اندر آنے کی اجازت نہیں مانگوں گا ( اس کے چلے جانے کے بعد ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دریافت کیا : یہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا احمق تھا جس کی پیروی کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ حافظ الحدیث ہے ، جس نے علم حدیث کی طلب میں بہت زیادہ سفر کیا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا: گیا ہے کہ وہ اتنے پائے کا نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن محمد بن مطیع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2269)»
حدیث نمبر: 12817
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ¤ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجِئْنَا ، فَاسْتَأْذَنَّا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیغام بھیج کر بلوایا ، ہم آئے اور ہم نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6129)»
حدیث نمبر: 12818
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَسْتَأْذِنُ ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا خَفِيفًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " يَا سَفِينَةُ ، افْتَحْ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے اجازت مانگتے ہوئے دروازہ آرام سے کھٹکھٹایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سفینہ اس کے لئے درواز کھول دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12818
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6436)»
حدیث نمبر: 12819
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : اجْتَمَعَ أَشْرَافُ قُرَيْشٍ عِنْدَ بَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، وَتِلْكَ الْعَبِيدُ وَالْمَوَالِي مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ آذِنُهُ ، فَأَذِنَ لِبِلَالٍ وَصُهَيْبٍ وَغَيْرِهِمَا وَتَرَكَ الْآخَرِينَ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ ، إِنَّهُ أَذِنَ لِهَذِهِ الْعَبِيدِ ، وَتَرَكَنَا جُلُوسًا بِبَابِهِ لَا يَأْذَنُ لَنَا ! فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو - وَكَانَ رَجُلًا عَاقِلًا - : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى الَّذِي فِي وُجُوهِكُمْ ، فَإِنْ كُنْتُمْ غِضَابًا فَاغْضَبُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، دُعِيَ الْقَوْمُ وَدُعِيتُمْ ، فَأَسْرَعُوا وَأَبْطَأْتُمْ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَمَا سُبِقْتُمْ إِلَيْهِ مِنَ الْفَضْلِ أَشُدُّ عَلَيْكُمْ فَوْتًا مِنْ بَابِكُمُ الَّذِي تَنَافَسْتُمْ عَلَيْهِ . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : وَاللَّهِ ، لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَبْدًا أَسْرَعَ إِلَيْهِ كَعَبْدٍ أَبْطَأَ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ قریش کے کچھ معززین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس اکٹھے ہوئے ، ان لوگوں میں حارث بن ہشام ، ابوسفیان بن حرب اور سہیل بن عمرو شامل تھے اور اس کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ غلام یا آزاد شدہ غلام بھی تھے ، پھر اطلاع دینے والا شخص باہر آیا اور اس نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں کو اجازت دیدی ہے ، اور باقی لوگوں کو ابھی نہیں دی ، ابوسفیان نے کہا: میں نے آج کی طرح کا دن کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے غلاموں کو اجازت دیدی ہے اور ہمیں اپنے دروازے پر بیٹھا چھوڑ دیا ہے ، اور ہمیں اجازت نہیں دی ، تو سہیل بن عمرو جو ایک عقل مند شخص تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! تمہارے چہروں کی جو صورت حال ہے ۔ وہ میں دیکھ رہا ہوں ، اگر تم نے غضبناک ہونا ہے ، تو تم اپنی ذات کے حوالے سے غضبناک ہو ، کیونکہ ان لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی اور تمہیں بھی دعوت دی گئی تھی ، تو ان لوگوں نے ( دعوت قبول کرنے میں ) جلدی کی اور تم لوگوں نے تاخیر کی ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تمہیں جو فضیلت نصیب نہیں ہوئی وہ اس سے زیادہ شدید ہے ، جو تم اس دروازے پر ( اجازت نہ ملنے پر ) غصہ کر رہے ہو ۔ حسن بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف تیزی سے آنے والے بندے کو ، اس بندے کی مانند نہیں بنایا ہے ، جو اس کی طرف تاخیر سے آتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6038)»
حدیث نمبر: 12820
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدُّورِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص تین مرتبہ اجازت مانگ لے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباس بن محمد دوری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1687)»
حدیث نمبر: 12821
وَعَنْ أَعْيَنَ الْجَرَامِيزِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ فِي دِهْلِيزٍ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، قُلْتُ : أَدْخُلُ ؟ قَالَ : هَذَا مَكَانٌ لَا يُسْتَأْذَنُ فِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَعْيَنُ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
اعین جرامیزی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ اس وقت دہلیز میں موجود تھے ، میں نے انہیں سلام کیا ، میں نے دریافت کیا : کیا میں اندر آ جاؤں ؟ تو انہوں نے فرمایا : یہ وہ والی جگہ ہے ، جس میں اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اعین نامی راوی مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (697)»
حدیث نمبر: 12822
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : ¤ إِذَا دَعَوْتَ الرَّجُلَ فَقَدْ أَذِنْتَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میں کسی شخص کو بلاؤں تو گویا میں نے اسے اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8559)»
حدیث نمبر: 12823
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَّا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَأَذِنَ لَنَا ، وَأَلْقَى عَلَى امْرَأَتِهِ قَطِيفَةً ، وَقَالَ : إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالرَّجُلُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں صبح کی نماز کے بعد اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی ، انہوں نے اپنی بیوی پر چادر ڈال دی ، انہوں نے فرمایا : مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں تم لوگوں کو روک کے رکھوں ( یا اندر نہ آنے دوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8797)»
حدیث نمبر: 12824
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِلَّا بِإِذْنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ذمیوں کے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5850)»