حدیث نمبر: 12814
وَعَنْ أَبِي سُوَيْدٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : ¤ أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا ، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ ، فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ ، فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ ، فَفَطِنَ بِي ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي ؟ قُلْتُ : أَنَا . قَالَ : بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي ؟ قُلْتُ : أَبْطَأَ عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ ، فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ . قَالَ : ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، قَلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ ؟ قَالَ : مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ وَبَرَكَةُ بْنُ يَعْلَى التَّمِيمِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین

ابوسوید عبدی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر بیٹھ گئے تاکہ ہمیں اجازت مل جائے ، انہوں نے ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی ، تو میں اٹھ کر دروازے کی جھری کی طرف بڑھا اور میں نے اندر جھانکنا شروع کیا ، انہیں میرے بارے میں پتہ چل گیا ، جب انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم بیٹھ گئے ، تو انہوں نے فرمایا : ابھی تھوڑی دیر پہلے تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا تھا ؟ میں نے کہا: میں نے ، انہوں نے فرمایا : تم نے کس بنیاد پر اس چیز کو حلال قرار دیا کہ تم میرے گھر میں جھانکو ؟ میں نے جواب دیا : آپ نے ہمارے حوالے سے تاخیر کر دی تھی ، اس لئے میں یہ دیکھ رہا تھا ، میں نے جان بوجھ کر یہ نہیں کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان لوگوں نے ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! جہاد کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جو شخص جہاد کرتا ہے وہ اپنی ذات کے لئے جہاد کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابواسود اور برکہ بن یعلیٰ تمیمی نامی دونوں راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5672)»