مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الِاسْتِئْذَانِ وَفِيمَنِ اطَّلَعَ فِي دَارٍ بِغَيْرِ إِذْنٍ باب: اجازت مانگنے کا بیان اور جو شخص اجازت لیے بغیر گھر میں جھانکے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَرْسَلَنِي مُدْرِكُ أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى ، فَقُلْتُ : أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرَغَ . فَقَالُوا : هَيْهَاتَ . فَقُلْتُ لَآذَنَّهَا : كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ؟ فَقَالَ : قُلِ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبداللہ بن ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں : مدرک نے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن مدرک نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کروں ۔ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پاس آیا تو وہ اس وقت چاشت کی نماز ادا کر رہی تھیں ، میں نے سوچا میں بیٹھ جاتا ہوں ، جب تک یہ فارغ نہیں ہو جاتیں ، لوگوں نے کہا: کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میں ان سے اجازت لینا چاہتا ہوں ، میں ان سے کیسے اجازت لوں ، تو اس شخص نے کہا: تم یہ کہو : اے نبی ! آپ پر سلام ہو ، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، ہم پر بھی اور تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو ! امہات المؤمنین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر سلام ہو ، اسلام علیکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔