مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الِاسْتِئْذَانِ وَفِيمَنِ اطَّلَعَ فِي دَارٍ بِغَيْرِ إِذْنٍ باب: اجازت مانگنے کا بیان اور جو شخص اجازت لیے بغیر گھر میں جھانکے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ إِنَّمَا كَانَ نَفْيُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَكَمَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الطَّائِفِ ، بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُجْرَتِهِ إِذَا هُوَ بِإِنْسَانٍ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَزَغَ الْوَزَغَ " ، فَنَظَرُوا ، فَإِذَا هُوَ الْحَكَمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ ، لَا تُسَاكِنِّي فِي الْمَدِينَةِ مَا بَقِيتُ " . فَنَفَاهُ إِلَى الطَّائِفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُدْرِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم بن ابوالعاص کو مدینہ منورہ سے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا تھا ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں موجود تھے ، اسی دوران کسی شخص نے آپ کو جھانک کر دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چھپکلی ہے چھپکلی ہے ، جب لوگوں نے دیکھا تو وہاں حکم بن ابوالعاص موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نکل جاؤ ! جب تک میں زندہ ہوں ، تم میرے ساتھ مدینہ میں نہیں رہو گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مدرک بن سلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔