مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ السُّجُودِ وَالِانْحِنَاءِ باب: ( کسی کے سامنے ) سجدہ کرنے یا جھکنے کی ممانعت
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ إِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى كِسْرَى وَإِلَى صَاحِبِ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ ، وَبَعَثَ عَمْرًا إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَلَمَّا أَتَى عَمْرٌو النَّجَاشِيَّ ، وَجَدَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَدْخُلُونَ مُكَفِّرِينَ مِنْ خَوْخَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى الْخَوْخَةَ وَدُخُولَهُمْ عَلَيْهِ ، وَلَى ظَهْرَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ يَمْشِي الْقَهْقَرِيَّ ، فَلَمَّا دَخَلَ مِنْهَا اعْتَدَلَ ، فَفَزِعَتِ الْحَبَشَةُ وَهَمُّوا بِقَتْلِهِ ، قَالُوا : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ كَمَا دَخَلْنَا ؟ قَالَ : لَا نَصْنَعُ ذَلِكَ بِنَبِيِّنَا ، فَهُوَ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ ذَلِكَ بِهِ ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : اتْرُكُوهُ ، صَدَقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤سیدنا عمرو بن امیہ بن ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین افراد کو بھیجا ، ایک کو قیصر کی طرف ، ایک کو کسریٰ کی طرف اور ایک کو اسکندریہ کے حکمران کی طرف بھیجا ، آپ نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا ، جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس آئے ، تو انہوں نے یہ صورت حال پائی کہ جو لوگ بھی نجاشی کے پاس آتے تھے ، وہ ایک چھوٹے دروازے میں سے داخل ہوتے تھے ، جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس چھوٹے دروازے کو اور ان لوگوں کے داخل ہونے کے طریقے کو دیکھا تو انہوں نے پیٹھ پھیر لی اور پھر الٹے قدم چلتے ہوئے اندر داخل ہوئے ، جب وہ اندر داخل ہو گئے ، تو سیدھے ہو گئے ، حبشی لوگ اس بات پر مشتعل ہو گئے ، انہوں نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ، ان لوگوں نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں داخل ہوئے جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں ؟ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم اپنے نبی کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرتے ہیں ، جو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کیا جائے ، تو نجاشی نے کہا: اسے چھوڑ دو یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔