مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ السُّجُودِ وَالِانْحِنَاءِ باب: ( کسی کے سامنے ) سجدہ کرنے یا جھکنے کی ممانعت
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ بِمَكَّةَ حِينَ شَطَّتْ بِهِمْ عَشَائِرُهُمْ : ¤ " تَفَرَّقُوا فِي الْأَرْضِ " . ¤ فَتَفَرَّقُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ عَمْرٌو وَعَبْدُ اللَّهِ لِلنَّجَاشِيِّ : لَا يُحَيُّوكَ بِالتَّحِيَّةِ الَّتِي يُحَيِّيكَ بِهَا مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْكَ مِنَّا . فَقَالَ لِجَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ : مَا لَكُمْ مَا تُحَيُّونِي كَمَا يُحَيِّي أَصْحَابُكُمْ ؟ قَالَ : نُحَيِّيكُمْ بِتَحِيَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّهَا تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُ بِسَبَبِ التَّدْلِيسِ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ عَنْ شَيْخٍ ثِقَةٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ : " لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . مِنْ طُرُقٍ فِي النِّكَاحِ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مکہ میں جب مسلمانوں کے خاندانوں نے انہیں تنگ کرنا شروع کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم زمین میں ادھر ادھر چلے جاؤ ، تو وہ لوگ حبشہ کی سرزمین کی طرف چلے گئے ، قریش نے عبداللہ بن ابوربیعہ اور عمرو بن العاص کو بھیجا ، عمرو اور عبداللہ نے نجاشی سے جو باتیں کی تھیں ، ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ لوگ آپ کو اس طرح سلام نہیں کریں گے ، جس طرح ہم میں سے آپ کے پاس آنے والا شخص آپ کو سلام کرتا ہے ، نجاشی نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس طرح سلام نہیں کرتے ہو ، جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہم آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح ہمارے نبی کو سلام کیا جاتا ہے ، اور یہ اہل جنت کا سلام کرنے کا طریقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یعقوب زہری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کی تدلیس کی وجہ سے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، تاہم اس نے ایک ایسے شیخ کے حوالے سے تحدیث کی صراحت کی ہے ، جو ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے : ” اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کی اجازت دینی ہوتی ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “ اس روایت کے مختلف طرق کتاب النکاح میں گزرے ہیں ۔