حدیث نمبر: 12770
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ : لَقِيَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَصَافَحَنِي ، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي ، ثُمَّ قَالَ : تَدْرِي لِمَ أَخَذْتُ بِيَدِكَ ؟ قَالَ : لَا ، لَا ، إِنِّي ظَنَنْتُ لَمْ تَفْعَلْهُ إِلَّا لِخَيْرٍ . فَقَالَ : إِنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَنِي فَفَعَلَ بِي ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ بِكَ ذَلِكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا وَتَصَافَحَا ، وَضَحِكَ كُلٌّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي وَجْهِ صَاحِبِهِ ، لَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ إِلَّا لِأَنَّهُ لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو دَاوُدَ الرَّاوِي عَنِ الْبَرَاءِ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوداؤد بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، میرے ساتھ مصافحہ کیا اور میرے ساتھ مسکرا کے ملے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں نے تمہارا ہاتھ کیوں پکڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ، لیکن مجھے یہ اندازہ ہے کہ آپ نے کسی بھلائی کی وجہ سے ہی ایسا کیا ہو گا ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ، تو جب وہ ایسا کرتے ہیں ، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے والا شخص ابوداؤد متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12770
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (531)»