مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُصَافَحَةِ وَالسَّلَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 12771
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، تَحَاتَّتْ عَنْهُمَا ذُنُوبُهُمَا ، كَمَا يَتَحَاتُّ الْوَرَقُ عَنِ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ ، وَإِلَّا غُفِرَ لَهُمَا ، وَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُمَا مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے ، اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح تیز ہوا والے دن میں خشک درخت کے پتے گر جاتے ہیں ، اور ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ ان دونوں کے گناہ سمندر کے جھاگ کی مانند ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سالم بن غیلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔